ای پیپر

0


 

ہندوستان سے ایمنسٹی کا اخراج ہندوستانی جمہوریت پر سوال

0

 
ہندوستان سے ایمنسٹی کا اخراج ہندوستانی جمہوریت پر سوال
کرن تھاپر
آپ کو نریندر مودی کی جانب سے ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے پر فخر کا احساس یاد ہوگا انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے اولین برسوں میں بار بار اس کا اعادہ کیا۔ کوئی بھی ان کی اس خصوصیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ ہندوستان بار بار انتخابات کروانے اور حکومتیں تبدیل کرنے کے لئے شہرت رکھتا ہے۔ کوئی بھی مودی کے دعوے پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ ان کا دعویٰ غیر متنازعہ طور پر درست تھا۔ ہم آزاد عدلیہ میں یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صحافت آزاد اور نڈر ہے لیکن یہ صرف جمہوریت کا دکھاوا ہیں کیونکہ اپنے دل میں انسانی حقوق کا احترام ہے۔حکومت کے گزشتہ 6 سال میں بہت کچھ پیش آچکا ہے اور جمہوری بنیادی جذبہ کا احترام ابھرکر سامنے آیا ہے۔ ایمنسٹی اکثر ان کی باتوں کی پرزور تائید کرتی تھی۔جموں و کشمیر میں کارروائی اور پولیس کی جانب سے دہلی میں فروری کے فسادات سے نمٹنا کے طریقہ پر ایمنسٹی نے اپنی آواز صیانتی افواج کی جانب سے استحصال کے خلاف اٹھائی تھی۔ انسداد دہشت گردی اور غداری کے قوانین اکثر ناراض افراد کو کچلنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ مسلح افواج (خصوصی اختیارات) قانون کی وجہ سے سکھوں کا قتل عام 1984 میں ہوا اور آزادی? تقریر ختم کردی گئی۔ جو افراد حکومت کی تائید کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے ان کے لئے یہ ایک کانٹا تھی لیکن اس سے عوام کی نمائندگی بھی ہوئی اور اس کے بعد انہیں احسان مند ہونا پڑا۔میں ان الزامات کی تیز رفتاری پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا جو ایمنسٹی کے خلاف عائد کئے جاتے ہیں۔ اس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے ہندوستانی قوانین میں کمی کردی اور مشتبہ جواز کی بنا پر مالیہ حاصل کیا۔ ایمنسٹی اس کا انکار کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔مودی حکومت کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کی زیر قیادت حکومت بھی ایمنسٹی کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوگئی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جانب داری یا سیاسی انتقام نہیں ہے۔ حکومت نے ایمنسٹی کو مالیہ فراہم کیا حالانکہ وہ اس کو تنقید کا نشانہ بناتی تھی لیکن مالیہ کی کمی کا شکار تھی۔ سادہ سے الفاظ میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے یہ دلیل کی خاطر ہو آپ تسلیم کرتے ہیں کہ ایمنسٹی غلطی پر تھی؟ دانشمند جمہوریت محتاط طور پر غور کرتی ہے اور پھر کونسے اقدامات کرنے چاہئے اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مسلح افواج کی جانب سے ایمنسٹی کی کارروائی دکان بند کردے گی اور انہیں تخلیہ کرنا پڑے گا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت صرف ہمارا پختہ ارادہ ہی نہیں ہے بلکہ درحقیقت اس سے ہمیں آخر کار شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ایمنسٹی کو برخواست کرنے کی ضرورت ہے لیکن فضاء جو کبھی ہماری دہلیز پر ہے قیمتی ہے۔ درحقیقت اس کا متبادل موجود نہیں ہے کیونکہ یہ جو کارروائی کرتا ہے وہ ناقابل تبدیل ہے۔ یہ ہندوستان کے لئے خراج عقیدت ہے کہ ایمنسٹی نے دستبرداری کا فیصلہ کیا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اس طرح کئی ممالک شبہ میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ایمنسٹی کے عزائم کیا ہیں؟ اور وہ پاکستان اور چین جیسے ممالک کے خلاف کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایمنسٹی بہتر حالت میں ہے۔اس مرحلہ پر ہمیں دوبارہ فخر کا اظہار نہیں کرنا چاہئے کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔ یہ بات خود ہمیں نہیں کہنی چاہئے۔ ہم میں سے کئی افراد کو رہنماو¿ں پر کافی یقین ہے۔ کہا جاتا ہے کہ باقی دنیا کو امید ہے کہ انہیں ترغیب دی جاسکے گی لیکن دنیا کو یقین ہے کہ ہم نے ایمنسٹی کے ساتھ اور اس کے ساتھ منصفانہ اور مناسب رویہ اختیار کیا ہے۔ یا پھر وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایمنسٹی کو بار بار انکشافات کرنے کی سزا دی گئی ہے اور وہ ہندوستانی جمہوریت کا کھوکھلا پن برسر عام ظاہر کرتی رہی ہے۔ انسانی حقوق کے مسئلہ پر ایمنسٹی زیادہ بلند درجہ پر پہنچ گئی ہے جو حکومت ہند سے بھی اونچا ہے۔ میں صرف مودی حکومت کا حوالہ نہیں دے رہا ہوں بلکہ ان کے پیشرووں کا بھی حوالہ دیتا ہوں۔ خاص طور پر اندرا گاندھی کا، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ایمنسٹی میں اپنی کوتاہیاں موجود ہیں۔آخر کار اس کے بانی پیٹر بیننسن تھے جنہوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ 1966 میں ان کی تنظیم برطانوی دفتر خارجہ اور MI-6 کے امور میں دخل اندازی کررہی تھی لیکن چند افراد کو ان کی بات پر یقین آگیا اور 1977 میں ایمنسٹی نے نوبل امن انعام جیت لیا۔ سپاس نامہ کے الفاظ میں ”ظلمت میں اجالا“ لاکھوں قیدی ضمیر رکھتے تھے، یہ ایک صداقت ہے۔ اب یہ روشنی ہماری زندگیوں سے باہر نکل چکی ہے۔ ایسا 1948 میں پہلی بار ہوا تھا گاندھی کا قتل نئے آزاد ہند کو اپنے ضمیر سے محروم کرنے کی وجہ بنا۔ ایمنسٹی سے اخراج کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک آواز جو ہمیں یہ یاد دلاتی تھی کہ ہم اکثر اقدار میں کمی کے مجرم ہے ان آوازوں کو خاموش کررہے ہیں۔اکثر یہ اعادہ کی آواز تھی لیکن ہمیشہ ضروری آواز رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی بات سنی جاسکتی ہے اور اس بات کا دوبارہ یقین دلایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک جمہوریت کا ثبوت ہے حالانکہ بعض اوقات اس میں کوتاہی ہوتی ہے اور پیشرفت نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ہم اس کو اب سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کو آسانی سے خاموش کردیا جائے گا اور ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“ کا صفایا ہوجائے گا۔

گاندھی۔ گوڈسے قوم پرستی کے متضاد نظریات

0

گاندھی۔ گوڈسے قوم پرستی کے متضاد نظریات
رام پنیانی
اس گاندھی جینتی کے موقع پر ٹوئٹر پر یہ دیکھا گیا کہ ناتھورام گوڈسے کا ٹرینڈ چلایا جارہا تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا اور ٹوئٹر پر ایک طوفان برپا کردیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے ٹرینڈ نے اسی پلیٹ فارم پر گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کئے جانے کے ٹرینڈ کو پھیکا کردیا تھا۔ جاریہ سال گوڈسے کو خراج تحسین پیش کرنے یا اس کی تائید میں ناتھورام گوڈسے زندہ باد جیسے نعرے ٹوئٹ کئے گئے اور اس طرح کے ٹوئٹس کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، جبکہ گزشتہ سال یعنی 2019 میں گوڈسے کی تائید میں جو ٹوئٹس کئے گئے تھے ان کی تعداد صرف 20 ہزار تک محدود تھی۔ جاریہ سال جو ٹوئٹس کئے گئے وہ دراصل BOT اکاو¿نٹس سے کئے گئے جبکہ بعد کے دیگر ایام میں ”سشانت کے لئے انصاف“ جیسے ٹوئٹس کی بھرمار رہی۔ یہ ٹوئٹس بالی ووڈ اداکار سشانت سنگھ راجپور کی خودکشی سے ہوئی موت کے بعد سے ہی شروع کردیئے گئے تھے۔ جہاں تک گاندھی جی کو خراج عقیدت اور ناتھورام گوڈسے کی مذمت کئے جانے کا سوال ہے پچھلے چند برسوں سے ناتھورام گوڈسے کو خراج تحسین پیش کئے جانے اور اس کی تعریف و ستائش کئے جانے سے متعلق ٹوئٹس کی تعداد میں یقینا بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں آر ایس ایس کے اس وقت کے سربراہ راجیندر سنگھ نے یہ کہتے ہوئے ایک طرح سے گوڈسے کی زبردست ستائش کی تھی کہ گوڈسے کو اکھنڈ بھارت سے گاندھی جی کے قتل کی ترغیب ملی۔ اس کا ارادہ بہت اچھا تھا لیکن اس نے اپنے ارادہ کو عملی شکل دینے کے لئے غلط طریقہ اپنایا (آو¿ٹ ل±ک) شائد آج بھی کوئی ہندوستانی یہ فراموش نہیں کیا ہوگا کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے پارلیمنٹ میں گوڈسے کی تعریف و ستائش میں کیا تبصرہ کیا تھا؟ سادھوی نے کہا تھا کہ ناتھورام گوڈسے ایک محب وطن ہندوستانی تھا، ہے اور محب وطن ہندوستانی رہے گا۔امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ کی زیر قیادت افریقی امریکیوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کی خاطر جدوجہد کی گئی۔ مارٹن لوتھر کنگ چاہتے تھے کہ سیاہ فام امریکی باشندوں کے ساتھ مساوات کا مظاہرہ کیا جائے، انہیں انسان سمجھا جائے اور زندگی کے ہر شعبہ میں سفید فاموں کی طرح نمائندگی دی جائے۔ اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے مارٹن لوتھر کنگ نے گاندھی جی کے پیام عدم تشدد کا سہارا لیا۔ جنوبی افریقہ میں بھی نیلسن منڈیلا نے حکومت کی ظالمانہ اور نسل پرستانہ روش کے خلاف جو تحریک چلائی اس میں بھی گاندھی جی کے پیام عدم تشدد سے متعلق اصولوں کو اپنایا۔گاندھی جی کے جو منفرد کارنامے تھے ان کا مقصد ہندوستانی شناخت کے دھاگے میں سارے ملک کو متحد کرنا تھا۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف نوآبادیاتی نظام کے خلاف تحریک چلائی اور اس کے لئے عدم تشدد کے اصولوں کا استعمال کیا اور ستیہ گرہ کے ذریعہ ظالم طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ جس وقت وہ اپنی تہذیب کو فروغ دے رہے تھے اپنے کام میں انہوں نے ایک ایسے امر کو بھی شامل کیا جس میں ذات پات اور نسل کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے اس طرح کی ناپسندیدہ چیزوں یا کیفیتوں کو مساوات سے بدلنے کی کوشش کی اور اس کا عکس ہمیں ان کی مخالف چھوت چھات تحریک میں دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے دلتوں کے لئے تحفظات کا مطالبہ کیا اور دستور ہند کے مسودہ کی تیاری سے متعلق کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا نام پیش کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گاندھی جی ہندوستان میں چھوت چھات کے سخت خلاف تھے۔ نسل پرستی اور ذات پات کے مخالف تھے۔ اس کے برعکس مسلم قوم پرستوں اور ہندو قوم پرستوں نے اپنی کمیونٹیز کے اعلیٰ طبقات کے مفادات کی نگہبانی کی اور ہمیشہ یہی چاہا کہ زمانہ قدیم کی طرح ذات پات اور صنف کے رواج کا احیاءعمل میں آئے۔ناتھورام گوڈسے جو آر ایس ایس میں تھا اور ایک مرحلہ پر اس کا پرچارک بن گیا وہ ہندو قوم پرستی کے اقدار سے بری طرح بھٹک گیا تھا۔ ہندو قوم پرستوں کے لئے ماضی کی ذات پات میں امتیاز اور عدم مساوات سے متعلق اقدار بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ گوڈسے کی کتاب ”میں نے گاندھی کو کیوں قتل کیا“ اب بک اسٹالس پر کھلے عام فروخت کی جارہی ہے۔ اس کتاب میں گوڈسے لکھتا ہے کہ گاندھی اس طرح نہیں تھے جس طرح دکھائی دیتے تھے یعنی وہ ان کی دکھائی دینے والی شخصیت کے متضاد تھے۔ ایک ایسے ”پرتشدد امن پسند“ تھے جنہوں نے اپنے امن کے ذریعہ سچائی اور عدم تشدد کے نام پر ہندوستان کو ناقابل بیان پریشانیوں کا شکار بنا دیا تھا۔ جبکہ رانا پرتاپ، شیواجی اور گرو ہمیشہ ہمارے ہم وطنوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے کیونکہ ان لوگوں نے جو آزادی دلائی وہ ناقابل فراموش ہے اور ان کی یادیں ہندوستانیوں کے دلوں میں چمکتی رہیں گی۔ آج ایسا لگ رہا ہے کہ حقیقی قوم پرستی کے متضاد کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ایک طرف مہاتما گاندھی کی اہم اختراعات جو انہوں نے سماجی تحریک میں متعارف کروائی تھی یعنی عدم تشدد اور ستیہ گرہ ا انہیں وسیع پیمانے پر عالمی برادری تسلیم کررہی ہے لیکن اپنے ہی ملک میں گاندھی جی کی قوم پرستی کا تصور یا نظریہ شدید خطرہ میں ہے۔ موجودہ حکمراں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس نظریہ کو مضبوط کررہے ہیں جو گاندھی کے قتل کی اصل جڑ ہے جبکہ گوڈسے کو ایک منصوبہ بند انداز میں ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے فروغ دیا جارہا ہے۔ لیکن گوڈسے کے نظریات کی اصل تنظیم آر ایس ایس خود کو گوڈسے سے دور رکھنے کی تمام تر کوششیں کررہی ہے حالانکہ گوڈسے آر ایس ایس کا ایک تربیت یافتہ پرچکارک تھا اور آر ایس ایس میں ہر کسی کو یوں ہی پرچارک نہیں بنایا جاتا۔

بہار میں مسلمانوں کی سیاسی محرومی

0

 
بہار میں مسلمانوں کی سیاسی محرومی
عبدالرحمن
بہار نامور مذہبی اور سماجی مصلحین کی سرزمین ہے جو نہ صرف معاشرتی مذہبی اعمال میں اصلاح کرنا چاہتے ہیں بلکہ سماجی مساوات، سماجی خیرسگالی اور سماجی انصاف کی بھی تائید میں ہیں۔ یہ تمام امن اور خیرسگالی کے کلیدی عناصر ہیں۔ یہ نہ صرف مہاتما گوتم بدھ، مہاتما مہاویر جین، راجا چندر گپت موریہ، شہنشاہ اشوک وغیرہ کی سرزمین ہے بلکہ جئے پرکاش نارائن، بی پی منڈل، کارپوری ٹھاکر وغیرہ بھی یہیں کے سپوت تھے، انہوں نے محروم افراد کے اتحاد کی تجویز پیش کی اور کہا کہ ان میں مساوات کے ذریعہ اتحاد اور یکجہتی پیدا کی جانی چاہئے۔ اسی طرح استحصال کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔یہاں پر ایک طاقتور سماجی انصاف کی اقدار پائی جاتی ہیں جو سماجی ہم آہنگی کے بنیادی اصول، امن اور اخوت سے پیدا ہوئی ہیں۔ یہ تمام سماج میں سماجی انصاف قائم کرنے کے اصول ہیں جن کا آغاز شہنشاہ اشوک نے مہاتما گوتم بدھ کے فلسفے کی بنیادی اقدار کو اپنی مملکت میں رائج کرنے کے ذریعہ پیدا کیا تھا۔ جئے پرکاش نارائن کے بموجب جمہوریت پسند سوشل ازم حقیقی جمہوریت ہے اور سماجی انصاف کا نظریہ، سوشل ازم کا نظریہ سماجی انصاف کی بہار میں سماجی ہم آہنگی کی راہیں کھولنے والے کارپوری ٹھاکر نے دیگر پسماندہ طبقات کو سرکاری ملازمتیں دیں اور تعلیمی اداروں میں ان طبقات کے کوٹہ میں سے ضمنی گروپس کے لئے نشستیں مختص کیں۔ وہ چاہتے تھے کہ سماجی انصاف کا نچوڑ حکمت عملی کے طریقہ سے اپنائیں۔ بی پی منڈل کا نظریہ مجبور تمام طبقات بشمول شودر اتحاد تھا۔لالو پرساد یادو، شرد یادو، نتیش کمار، رام ولاس پاسوان وغیرہ جئے پرکاش نارائن کی تحریک کے نتیجہ میں ابھرے تمام طبقات کو ان سے سماجی انصاف کی توقع تھی جو سماجی، جذباتی اور خاص طور پر سیاسی مساوات پر مبنی ہو وہ کافی نمائندگی پولیس اور حکمرانی میں چاہتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مکمل طور پر سماجی انصاف تحریک پٹری سے اتر گئی۔ آج کا سماج مکمل طور پر اونچے طبقہ کے گروپس جیسے برہمنوں، راجپوتوں، بھومی ہاروں اور کشتریوں پر مشتمل تھا۔ ہندو اور مسلمان دیگر پسماندہ طبقات دو بڑے سماجی گروپ تھے جو سیاسی نمائندگی اور حکمرانی میں شرکت سے محروم رہے۔ یادو، کرمی اور کوئند نے سیاسی شعبہ میں اہم مقاموں پر قبضہ کرلیا۔ راشٹریہ جنتادل، جنتادل یونائیٹیڈ اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی، لالو یادو، نتیش کمار اور اوپیندر کشواہا کے علی الترتیب زیر قیادت ہیں۔نچلی ذاتوں کے دیگر پسماندہ طبقات جیسے ملاح اور بین (ماہیگیر)، لوہار، بڑھئی، تراہا (ترکاری فروش)، کمہار، نوہیا (زمین کھودنے والے) وغیرہ ہیں۔ بہار کی سیاست میں ان سب کو زیادہ نمائندگی حاصل ہوئی ہے۔ سیاسی طور پر عدم نمائندگی مسلمانوں کی ہے کیونکہ وہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور فرقہ وارانہ سیاست ریاست میں تشویشناک حد تک فروغ پارہی ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے بموجب بہار میں مسلمانوں کا فیصد 17.55 ملین اور سیاسی نمائندگی اس دوسری بڑی اکثریت کی جو بہار میں سب سے بڑا اقلیتی گروپ ہیں جو 1952 سے جبکہ بہار اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے برقرار ہے۔ مسلمان اپنی آزادی کے تناسب میں سیاسی شعبہ میں مقام حاصل نہ کرسکے۔ یہ ان کی سب سے پہلی سیاسی محرومی ہے۔1952 سے 2015 تک بہار اسمبلی کے 15 انتخابات جملہ 334 مسلمان ارکان اسمبلی کو منتخب کرسکے جو راست طور پر 4593 منتخبہ ارکان اسمبلی میں شامل تھے۔ آبادی کے تناسب میں 633 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہونے چاہئے تھے۔ تاہم مسلمان 299 ارکان اسمبلی تھے محروم رہے جو 47.24 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہار میں مسلمان بڑے پیمانے پر سیاسی محرومی کا شکار ہیں۔ دیگر بیشتر ریاستوں کے برعکس بشمول آسام، یوپی اور مغربی بنگال بہار اسمبلی کا بھی ایک مقام ہے لیکن مسلم ارکان کی تعداد 17 اور 29 کے درمیان برقرار رہی ہے۔ 1985 میں اس کے 29 ارکان تھے جس کا اعادہ 2000 میں بھی ہوا۔ 1952 اور 1957 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ مسلم ارکان ہندوستانی قومی کانگریس (INC) کے تھے۔ 1962 میں مسلم سیاسی قائدین مختلف سیاسی گروپس سے منتخب ہوئے۔ 1977 میں جنتا پارٹی کو 13 فیصد کانگریس کو 8 مسلم ارکان اسمبلی حاصل ہوئے جبکہ مسلم ارکان اسمبلی کی جملہ تعداد 24 رہی۔ 1980 تا 1985 یہی تعداد برقرار رہی۔ بہار انتخابات میں کانگریس ملک گیر سطح پر واپس آگئی۔ یہ دور مسلم دوست انتخابی رجحان کا دور تھا۔ کانگریس نے بہار کے مسلمانوں کو اعظم ترین نمائندگی دی اور 1985 میں 29 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1990 سے جبکہ جے ڈی تشکیل دیا گیا۔ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والا یہ سب سے بڑا گروپ تھا۔تین انتخابات کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان بہار اسمبلی انتخابات میں سب سے کم نمائندگی کے حامل رہے۔ آزاد ہند میں وہ صرف 6.58 فیصد نمائندگی کرسکے۔ محبوب علی قیصر 2009 کے ضمنی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب رہے اور ارکان اسمبلی کی تعداد بڑھ کر 17 (7 فیصد) ہوگئی۔ آبادی میں تناسب کے اعتبار سے انہیں 40 نشستیں حاصل ہونا چاہئے تھا لیکن وہ 17 نشستیں حاصل کرکے 23 نشستوں کے نقصان میں رہے۔ آر جے ڈی کو 4، کانگریس کو 5، ایل جے پی کے جملہ مسلم امیدوار 47 تھے لیکن صرف ایک کامیاب ہوا۔ جے ڈی یو نے 9 امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں 4 کامیاب ہوئے۔ سی پی آئی ایم ایل کا ایک، این سی پی کا ایک اور ایک آزاد امیدوار کامیاب رہا۔حیرت انگیز لیکن اہم بات یہ ہے کہ 2005 کے بہار اسمبلی انتخابات میں 42 مسلم امیدوار تھے جو دوسرے مقام پر رہے اور وہ بھی بہت کم ووٹوں کے فرق سے جو صرف ایک ہزار سے کم ووٹوں کا تھا۔ وجوہات یہ ہوسکتی ہیں کہ برسر اقتدار آر جے ڈی سے عوام ناراض تھے اور جے ڈی یو نے کم تعداد میں مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مسلم ووٹ جے ڈی یو اور بی جے پی میں تقسیم ہوگئے۔ حالانکہ مسلمانوں کی اکثریت نے جے ڈی یو کو ووٹ دیا تھا۔ان تمام تجزیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر سماجی انصاف کا ایک وسیع طیف ہے جو بہار میں اپنے حقیقی قد و خال کے ساتھ موجود ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ درجہ فہرست ذاتیں، درجہ فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات سیاست اور حکمرانی میں اپنی آبادی کے تناسب سے مناسب حصہ سے محروم رہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لئے اور ان کی قیادت کے لئے اب وقت آگیا ہے کہ ایسا معیار پیش کریں جو ان کی تنگ نظر سیاسی فکر سے ماورا ہو۔ وسیع ذہنیت اختیار کریں اور بہار کے مسلمانوں کو فراخدلی کے ساتھ ترقی دیں۔

شوہر اور بیوی میں نااتفاقی طلاق کا سبب

0

 شوہر اور بیوی میں نااتفاقی طلاق کا سبب
محمد اسد علی ، ایڈوکیٹ
دور حاضر میں خاندانی اور روایتی اقدار کو بڑی حد تک بالائے طاق رکھا جارہا ہے اور اخلاق و اداب کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ماضی میں شوہر اور بیوی کو ”ایک جان دو قالب“ کہا جاتا تھا اور یہ ازدواجی رشتہ آخر تک برقرار رہتا تھا شوہر بیوی کا احساس کرتا اور بیوی شوہر کے لئے انتہائی ہمدردی کی حامل ہوا کرتی تھی لیکن معاشرہ کی تبدیلی اور مغربی ممالک کے مضر اثرات نے معاشرہ اور بیوی جیسے رشتے پر بھی اپنے اثرات مرتب کئے۔ کئی موکلیں کے مطابق بعض لڑکیاں شادی کے بعد صرف اپنے شوہر کے ساتھ الگ رہنا پسند کرتی ہیں اور لڑکی شوہر کے افراد خاندان سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی ہے کیونکہ اکثر لڑکیوں شادی کے بعد کا جھکاو¿ میکہ کی طرف ہوتا ہے اور اپنے شوہر کو بھی میکہ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور آہستہ آہستہ اپنی مٹھی میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اگرچیکہ لڑکا اگر بیرونی ممالک میں ملازمت کرتا ہوتو اسے اپنے ماں باپ سے زیادہ سسرال کے لوگوں کی فکر رہتی ہے۔ وہ اپنے سالے اور سالیوں سے گھل مل جاتے ہیں اور ان کے لئے بیرونی ممالک سے تحفہ ? و تحائف بھجواتے ہیں۔ اپنے والدین کو ملازمت خطرہ میں ہے بتاکر پیریشانی ظاہر کرتے ہیں اور لڑکی بھی یہی چاہتی ہیکہ اس کا شوہر اس کی مٹھی میں رہے۔ ان کی ہر خواہشات کی تکمیل کرلے اور میکہ میں رہنے کی اجازت دے تاکہ میکہ میں رہ کر اپنے بھائی بہنوں اور دیگر رشتے داروں میں مزے اڑاتے پھرتے رہے۔ شوہر کے اس بات کی اجازت نہ دینے پر لڑکی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے فون پر نا زیبا الفاظ کا استعمال کرتی ہے جس سے شوہر اور ان کے والدین کو کافی تکلیف ہوتی ہے آخر کار لڑکے کے والدین مجبوری میں اپنے لڑکے کو الگ رہنے کے لئے اجازت دے دیتے ہیں لیکن لڑائی جھگڑے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ شوہر اور بیوی میں نا اتفاقی پیدا ہو جاتی ہے، لڑکی فون پر شوہر کو کیس کرنے کی دھمکی دیتی ہے نوبت پولیس اسٹیشن تک پہنچ جاتی ہے۔ لڑکی پولیس سے رجوع ہوتی ہے اور وہاں پر نہ صرف شوہر بلکہ اس کے بھائیوں، بہنوں، ساس اور دیگر کے خلاف شکایت درج کرواتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہیکہ اگر لڑکے کے بھائی، بھاوج، بہنیں وغیرہ جو کئی سال سے بیرونی ملک میں مقیم ہو اور لڑکے کی شادی میں شرکت نہ کی ہوتو بھی لڑکی اپنی شکایت میں ان کا نام درج کرواتی ہے جس سے ان بے قصور لوگوں کو بلاوجہ مصیبت ہوتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی اپنے گھر (انڈیا) آنا چاہیں تو آ نہیں سکتے کیونکہ لڑکی کی شکایت پر پولیس(Look Out Circular)جاری کرتی ہے۔ ایسے کئی بے قصور لوگ بعض لڑکیوں کے ظلم کی وجہ سے بیرونی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر شوہر اور نندیں حقیقت میں ظلم کرتے ہوں تو اس کے سدباب کے لئے قانون میں متعدد راستے موجود ہیں صرف(LOC)ایک چارہ کار نہیں ہے۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ موجودہ دور مادیت پرستی کا دور ہے جس میں مغربی تہذیب کا غلبہ ہے جہاں ایسے خاندان کا رواج ہے جس کا مطلب صرف خاندان ہے۔ جو صرف اور صرف شوہر، بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ خاندان کے بزرگوں کو اس عمر میں کوڑا کرکٹ کی طرح پھینک دیا جاتا ہے جس میں انہیں دیکھ بھال کی انتہائی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے واقعات شہر میں اور اطراف کے علاقوں میں عام ہیں مغربی تہذیب اور ثقافت کی اس لعنت سے تقریباً 65 فیصد خاندان متاثر ہیں جہاں نالائق اولاد اپنے بزرگوں کو بوجھ سمجھ کر نکال باہر پھینکتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیکہ جو ماں باپ ان کی پرورش اور تعلیم کا انتظام کرتے ہیں یہ بدنصیب اولادیں اس کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے پیر پر کھڑے ہونے کے بعد بعض بیویوں کی ترغیب کے علاوہ اپنی غلط فطرت کی وجہ سے ماں باپ کو بوجھ سمجھ کر ان سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔ انتہائی افسوس کے ان نافرمان اولاد کو ان کے عزیز و اقارب بھی اس حرکت سے روکنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں اور ان کی مدد کے لئے قدم بھی نہیں اٹھاتے ہیں حالانکہ مختلف خاندانوں میں دولت مند افراد کی کوئی کمی نہیں لیکن وہ اپنے غریب پریشان حال رشتے داروں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں عیدین اور دیگر تقاریب میں شامل کرنا توہین سمجھتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مساجد میں وعظ کے موقع پر اس اہم ترین موضوع کو نظرانداز کردیا جاتا ہے جبکہ اسلام میں ماں کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور باپ کو جنت کا ایک دروازہ قرار دیا ہے لیکن مغربی تہذیب کے دور میں ان باتوں پر نوجوان توجہ نہیں دیتے ہیں اور اپنی بیوی کے کہنے پر ماں باپ جو ضعیف ہو ان سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں انہیں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہیکہ وہ بھی پیرانہ سالی سے گذریں گے اور اس قسم کے حالات جو خود ان کے پیدا کردہ ہوتے ہیں جو انتہائی سنگین اور مہلک ترین نتائج پیدا کرسکتے ہیں ان حالات میں لڑکے اور لڑکی کے والدین کو چاہئے کہ اپنی شادی شدہ بچوں کی زندگی میں بیجا مداخلت نہ کرے اور اولاد کا بھی فریضہ ہوتا ہے کہ وہ مناسب حد تک ماں باپ کی خدمت کا خیال کریں۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا پاس و لحاظ و احترام کریں اور ایک دوسرے کی خطاو¿ں کو نظرانداز کرتے ہوئے جذبہ مفاہمت سے کام لیں۔ میاں بیوی دونوں بھی شرعی و مذہبی حقوق سے تجاوز نہ کرے ورنہ دونوں کی زندگی انتہائی تنقید کا شکار ہو سکتی ہے اور بچوں پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

این ڈی کی نیند حرام

0

 

این ڈی کی نیند حرام             
بہار میں اسمبلی انتخابات کی مہم شدت اختیار کرچکی ہے ہر جماعت کی جانب سے رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے جدوجہد تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو کی مہم میں عوام کا جو ردعمل حاصل ہو رہا ہے اس سے این ڈی اے اتحاد اور خاص طور پر نتیش کمار کی نیندیں حرام ہونے لگی ہیں۔ بی جے پی قائدین کو تو پھر بھی یہ اطمینان ہے کہ مرکز میں ان کی حکومت ہے اور وہ اس کے سہارے سیاسی زندگی گذار سکتے ہیں لیکن نتیش کمار کیلئے اقتدار اگر ہاتھ سے چلا جاتا ہے تو پھر بی جے پی کے نظر انداز کئے جانے والے رویہ کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بی جے پی نے نتیش کمار کی ساکھ متاثر کرکے رکھ دی ہے اور انہیں ایک مجبوری کا سودا بنادیا ہے۔ انتخابات سے عین قبل سے لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر چراغ پاسوان جس طرح سے نتیش کمار کو تنقیدوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں وہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا غصہ یا ناراضگی نہیں ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں نتیش کمار انتہائی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ انتخابی مہم کے دوران ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کی جو سیاسی ساکھ تھی وہ مسلسل متاثر ہوتی جا رہی ہے۔ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف گرتا ہی جا رہا ہے اور گودی میڈیا کے سہارے اس ساکھ کو سنبھالنے کی کوششیں بھی اب کارآمد دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ نتیش کمار کا یہ غصہ عوام پر بھی نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ جس طرح ان کی ریلیوں میں عوام کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اسی طرح ان کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ان کی اپنی ریلیوں میں آر جے ڈی کی تائید میں نعرے بلند کئے جا رہے ہیںاور خود جے ڈی یوکے قائدین کی جانب سے انہیں نظر انداز کئے جانے کی شکایات کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال نتیش کمار کیلئے پہلی مرتبہ پیدا ہوئی ہے اور بہار کے نوجوانوں میں ان سے ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر تیجسوی یادو کی جانب سے دس لاکھ روزگار دئے جانے کے وعدے کے بعد نتیش کمار کی سیاسی اہمیت میں اور بھی کمی آگئی ہے۔بہار کے عوام اب کھلے عام ان سے پندرہ سالہ اقتدار کی کارکردگی پر سوال کرنے لگے ہیں۔ نتیش کمار کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے زیادہ اتحادی بی جے پی کی وجہ سے مشکلات پیدا ہونے لگی ہیں۔ جس وقت تیجسوی یادو نے دس لاکھ سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا تو نتیش کمار نے اس کا مضحکہ اڑایا تھا اور بہار کے عوام میں مقبول لالو پرساد یادو کے تعلق سے ایسے ریمارک کئے تھے جن کی نتیش کمار سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں 19 لاکھ روزگار فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور اب لوگ نتیش کمار سے سوال کر رہے ہیں کہ جب دس لاکھ نوکریاں دینا ممکن نہیں ہے تو پھر 19لاکھ روزگار کس طرح فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ جس وعدے پر نتیش کمار نے تنقید کی تھی اور اسے ہوائی قلعے قرار دیا تھا اب بی جے پی نے اس سے دوگنی تعداد کی ملازمتوں کا وعدہ کرتے ہوئے نتیش کمار کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ اس کے علاوہ جو اوپینین پول گودی میڈیا میں دکھائے جا رہے ہیں ان میں بھی نشستوں کے اعتبار سے بی جے پی کو ہی زیادہ تعداد دکھائی جا رہی ہے اور نتیش کمار ی جے ڈی یو کی مقبولیت کو مسلسل گھٹتا ہوا دکھایا جا رہا ہے۔ یہ ساری صورتحال نتیش کمار کی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو ظاہر کرتی ہے۔ ان مشکل حالات میں چراغ پاسوان کی تنقیدوں نے بھی مزید اضافہ کردیا ہے۔ چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ بہار میں اگر ایل جے پی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو پھر نتیش کمار کو اپنے اسکامس کی وجہ سے جیل جانا پڑسکتا ہے۔چراغ پاسوان کی نتیش کمار پر تنقیدیں بی جے پی کیلئے بھی مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں لیکن بی جے پی چراغ پاسوان کو بھی یکسر نظر انداز کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بی جے پی کے خیال میں چراغ پاسوان کو استعمال کرتے ہوئے بہار میں نتیش کمار کی سیاسی ساکھ کو ختم کیا جاسکتا ہے اور اسی منصوبے پر وہ عمل کرتی نظر آرہی ہے۔ اس صورتحال میں تیجسوی یادو نے جس طرح بہار انتخابات کیلئے ترقیاتی اور ملازمتوں کا ایجنڈہ طئے کردیا ہے وہ ان کی پہلی اور سب سے بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے۔ اسی کامیابی کو وہ مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اس میں نتیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی گرتی ہوئی ساکھ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تین معیاد تک چیف منسٹر رہنے کے بعد سیاسی ساکھ کا گرنا غیر کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

0

 



1

 

 

 

 

2

 

 

 

 

3

 

 

 

 

4

 

 

 

 

5

 

 

 

 

6

 

 

 

 

7

 

 

 

 

8

 

 

 

 

9

 

 

 

 

10

 

 

 

 

11

 

 

 

 

12

 

 

 

 

13

 

 

 

 

14

 

 

 

 

15

 

 

 

 

16

 

 

 

 

17

 

 

 

 

18

 

 

 

 

19

 

 

 

 

20

 

 

 

 

21

 

 

 

 

22

 

 

 

 

23

 

 

 

 

24

 

 

 

 

25

 

 

 

 

26

 

 

 

 

27

 

 

 

 

28

 

 

 

 

29

 

 

 

 

30

 

 

 

 

31

 

 

 

 

32

 

 

 

 

33

 

 

 

 

34

 

 

 

 

35

 

 

 

 

36

 

 

 

 

37

 

 

 

 

38

 

 

 

 

39

 

 

 

 

40

 

 

 

 

41

 

 

 

 

42

 

 

 

 

43

 

 

 

 

44

 

 

 

 

45

 

 

 

 

46

 

 

 

 

47

 

 

 

 

48

 

 

 

 

49

 

 

 

 

50

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1

 

 

 

 

2

 

 

 

 

3

 

 

 

 

4

 

 

 

 

5

 

 

 

 

6

 

 

 

 

7

 

 

 

 

8

 

 

 

 

9

 

 

 

 

10

 

 

 

 

11

 

 

 

 

12

 

 

 

 

13

 

 

 

 

14

 

 

 

 

15

 

 

 

 

16

 

 

 

 

17

 

 

 

 

18

 

 

 

 

19

 

 

 

 

20

 

 

 

 

21

 

 

 

 

22

 

 

 

 

23

 

 

 

 

24

 

 

 

 

25

 

 

 

 

26

 

 

 

 

27

 

 

 

 

28

 

 

 

 

29

 

 

 

 

30

 

 

 

 

31

 

 

 

 

32

 

 

 

 

33

 

 

 

 

34

 

 

 

 

35

 

 

 

 

36

 

 

 

 

37

 

 

 

 

38

 

 

 

 

39

 

 

 

 

40

 

 

 

 

41

 

 

 

 

42

 

 

 

 

43

 

 

 

 

44

 

 

 

 

45

 

 

 

 

46

 

 

 

 

47

 

 

 

 

48

 

 

 

 

49

 

 

 

 

50

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

© 2020 تمام جملہ حقوق بحق | PATNA WEEKLY NEWS | محفوظ ہیں

Theme byNoble Knowledge